19 اگست 2026 - 16:30
اسرائیل کی سعودی نصابی تبدیلیوں پر خوشی؛ ’’مسلمان بیت المقدس سے دستبردار نہیں ہوں گے‘‘ کا جملہ حذف

سعودی عرب کی بعض درسی کتابوں میں تبدیلیاں، جن میں ’’مسلمان بیت المقدس سے دستبردار نہیں ہوں گے‘‘ کا جملہ حذف کرنا بھی شامل ہے، اسرائیلی حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ تل ابیب نے ان تبدیلیوں کو سعودی تعلیمی نظام میں ’’مثبت اصلاحات‘‘ کا تسلسل قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عربی 21 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کی بعض درسی کتابوں میں کی جانے والی تبدیلیوں کا اسرائیلی حلقوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی نصاب سے ’’مسلمان بیت المقدس سے دستبردار نہیں ہوں گے‘‘ کا جملہ حذف کیے جانے پر مشرق وسطیٰ کے تعلیمی نصاب کی نگرانی کرنے والے ایک اسرائیلی ادارے نے اس اقدام کو سراہا ہے۔

اسرائیلی ادارے امپیکٹ-ایس ای کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارکوس شیف نے کہا کہ سعودی عرب کے تعلیمی نصاب کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں تعلیمی نظام کی ’’مثبت اصلاحات‘‘ کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے ان مواد میں کمی کا بھی ذکر کیا جنہیں ان کا ادارہ ’’انتہا پسندانہ‘‘ یا ’’یہود مخالف‘‘ قرار دیتا ہے، جبکہ اسرائیل اور صہیونیت کے حوالے سے بھی بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کے اس اقدام کا خیرمقدم ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اسرائیلی سیاست دان مسجد الاقصیٰ کو منہدم کرکے اس کی جگہ نام نہاد ’’ہیکل‘‘ تعمیر کرنے کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے پیر کے روز اسرائیلی آبادکاروں کو مقبوضہ مشرقی القدس میں مسجد الاقصیٰ کے اندر یہودی مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت دی، جسے مسجد الاقصیٰ کی موجودہ حیثیت کی مزید خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

مذکورہ اسرائیلی ادارے نے سعودی نصاب سے قرآن کریم کی بعض ایسی آیات بھی حذف کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے جن میں ’’کفر اور گناہ‘‘ کا ذکر ہے۔ گیارہویں جماعت کی تاریخ کی ایک کتاب میں ’’صہیونی دشمن‘‘ کی اصطلاح کو تبدیل کرکے ’’اسرائیلی قابضین‘‘ کردیا گیا ہے۔

تاہم اسرائیلی ادارے نے اس تبدیلی کو بھی ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اسرائیلی قابضین‘‘ کی اصطلاح کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب اب بھی اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا۔

یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ نومبر میں بھی کہا تھا کہ ’’فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آئے گی‘‘۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha